کراچی میں تو عمارت گرا دی جاتی ہے لیکن یہ بنی گالا میں کیوں نہیں ہوتا، مرتضیٰ وہاب

حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ صوبے میں عمارتوں کو ریگولرائز کرنے کے حوالے سے آرڈیننس گورنر سندھ کو بھیج دیا جائے گا، جس کی منظوری کے بعد قانون نافذ ہوتے ہی انسداد تجاوزات مہم روک دی جائے گی اور اس کا فیصلہ کمیشن کرے گا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان حکومت سندھ اور ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی میں عمارت تو گرادی جاتی ہے اور کمرشلائزیشن روک دی جاتی ہے لیکن یہ اسلام آباد میں بنی گالا کیوں نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ سوال پوچھاجاتا ہے کہ یہ کارروائی اسلام آباد میں ون کانسٹی ٹیوشنل ایونیو جو مرکزی شاہراہ جمہوریت کے اوپر ایک بلند و بالا عمارت تعمیر کی گئی ہے اس پر کیوں نہیں ہوتی ہے تو پتہ چلتا ہے سپریم کورٹ نے ریگیولرائز کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی والے سوال پوچھتے ہیں کہ عثمان بزدار صاحب پنجاب میں ایک قانون لے کر آتے ہیں جس کے تحت اس طرح کی عمارتوں کو ریگیولرائز کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے جج کو تعینات کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوال ہم سے بھی پوچھا جاتا ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سمیت تمام سیاسی جماعتیں کہتی ہیں کہ دہرا معیار نہیں ہونا چاہیے اور کہتے ہیں اگر کسی غریب یا متوسط طبقے کے آدمی یا امیر آدمی نے بھی کاغذ دیکھ کر کسی عمارت میں پیسے لگائے ہوں اور گھر خریدا ہو تو اس سے 2 سال، 5 سال یا 10 سال بعد ان سے وہ چھت نہیں چھین سکتے ہیں۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پی پی پی سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی نے ایک ہفتہ قبل سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی اور حکومت کو توجہ دلائی کہ اس حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ہے، جس میں شہریوں کی پریشانیوں کو کم کیا جاسکے۔

‘آرڈیننس پورے سندھ کے لیے ہوگا’

انہوں نے کہا کہ اس قرار داد میں ان اراکین نے کہا کہ جو تعمیرات پانی یا نالے کے اوپر ہیں اس کے خلاف بالکل کارروائی ہونی چاہیے کیونکہ اس کے اثرات پورے شہر پر ہوتے ہیں لیکن اس کے علاوہ ایسے گھر، دکانیں اور عمارتیں جو بن چکی ہیں اور لوگ رہ رہے ہیں ان کو ہٹادیں تو پریشانی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ قراردار صرف کراچی کے لیے نہیں بلکہ پورے سندھ کے لیے ہے کیونکہ کوئی قانون ایک عمارت اور ایک شخص کے لیے بنائیں گے تو کہا جائے گا کہ کسی کی ذات کو فائدہ پہنچا رہے ہیں لیکن قانون ساز اسمبلی کا کام ہوتا ہے کہ پالیسی بنائیں تو تجویز دی گئی کہ پورے سندھ میں آب پاشی کا نظام نہیں رہا تو وہاں پر اگر کوئی شخص عرصہ دراز سے رہ رہا ہے اور آپ اس کو ہٹا دیں گے تو پریشانی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید تھی قومی اور پورے صوبے کا مسئلہ بالخصوص کراچی کے مسئلے پر قرارداد اسمبلی میں آئے گی تو ساری جماعتیں اس کی حمایت کریں گی لیکن بدقسمتی ہے کہ جو لوگ نسلہ ٹاور پر کھڑے ہو کر بڑی بڑی پریس کانفرنس اور بڑے اعلانات تو کرتے ہیں لیکن جب اسمبلی میں کام کرنے کی باری آئی تو راہ فرار اختیار کرلی۔

ترجمان حکومت سندھ نے کہا کہ پی پی پی کراچی اور پورے صوبے کے عوام کے ساتھ کھڑی ہوئی اور اکثریت کے ساتھ اس قرارداد کو منظور کرایا، یہ قرارداد حکومت سندھ کے پاس آئی اور اب فیصلہ کیا کہ اس قرارداد کی روشنی میں قانون سازی کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ قانون سازی تیار کرلی گئی ہے، ڈرافٹ محکمہ قانون نے وزیراعلیٰ کو بھیج دیا ہے اور وزیراعلیٰ سندھ آج وہ آرڈیننس گورنر سندھ کو بھیج دیں گے، اس امید کے ساتھ کہ گورنر اس کی توثیق کریں گے اور اس کو قانونی شکل دے دی جائے گی۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ جس طرح پنجاب میں قانون آیا ہے اسی طرح کا قانون سندھ میں آیا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ ایک اضافی پیراگراف شامل کیا گیا ہے کہ جیسے ہی یہ قانون نافذالعمل ہوگا تو انسداد تجاوزات کی مہم کو روک دیا جائے گا جب تک اس کے بارے میں وہ کمیشن فیصلہ نہیں کرتا۔

‘ریگیولرائزیشن کا فیصلہ کرنے کے لیے کمیشن کی تجویز’

انہوں نے کہا کہ جس طرح پنجاب میں کمیشن بنایا گیا ہے اسی طرح سندھ میں کمیشن بنانے کی تجویز دی گئی ہے، جس طرح پنجاب میں ایک ریٹائرڈ جج کمیشن کی سربراہی کریں گے اسی طرح سندھ میں بھی معزز ریٹائرڈ جج کمیشن کا سربراہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ امید کرتا ہوں کہ وہ لوگ جو دو نہیں ایک پاکستان کی بات کرتے ہیں، ان کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہوگا، جو لوگ سڑک پر کھڑے ہو کر مجھے اور میری پارٹی کو برا بھلا کہتے ہیں لیکن غریبوں کو بچانے کے لیے کبھی باہر نہیں آتے، وہ لوگ اس پر سیاسی رسہ کشی اور بے جاتنقید نہیں کریں گے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ جیسے یہ آرڈیننس اسمبلی میں آئے گا تو وہاں سے منظور بھی کروائیں گے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں حکومتوں، ریاست اور اسمبلی کا کام عوام کی خدمت کرنا ہوتا ہے اور عوامی نمائندے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے عوام کے بہتر مفاد میں یہ فیصلہ کیا ہے تاکہ لوگوں کو اس مشکل وقت میں ریلیف دیا جاسکے اور اس ریلیف میں غریب، متوسط طبقہ اور اس میں چند امیر بھی آئیں گے۔

ترجمان حکومت سندھ نے کہا کہ ہم کم ازکم ایک نظام بناپائیں گے کہ اگر اسلام آباد اور پنجاب والوں کی ریگیولرائزیشن ہوسکتی ہے تو سندھ میں رہنے والوں کے لیے بھی قانون کے مطابق عمارتوں اور گھروں ریگیولرائزیشن ہوسکتی ہے۔

‘ضروری نہیں کی ہر عمارت ریگیولرائز ہو’

انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان میں قانون بنانے کا طریقہ کار درج ہے اور قانون بنانے کا مقصد عوام کے بنیادی حقوق کاتحفظ کرنا ہوتا ہے اور آج حکومت سندھ نے اس کی ابتدا کرلی ہے اور امید ہے کہ ہمیں کام کرنے دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیشن فیصلہ کرے گا کہ کس طریقہ کار کے تحت اس کو ریگیولرائز کیا جائے یا ریگیولرائز نہ کیا جائے، ضروری نہیں ہے کہ ہر عمارت ریگیولرائز ہوگی، وہ جج اپنے اراکین کے ساتھ بیٹھ کر فیصلہ کریں گے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر ایک گھر سرکاری کاغذات دیکھ کر خریدلیا جائے اور 10 سال بعد اس سے چھین لیا جائے تو نامناسب بات ہے، میں غلط فیصلہ کیا تھا اور میرے خلاف کارروائی کریں۔

انہوں نے کہا کہ نسلہ ٹاور کی زمین بنیادی طور پر حکومت سندھ نے الاٹ نہیں کی، سندھی مسلم کوآپریٹیو سوسائٹی ہمارے ماتحت کام نہیں کرتی، اس پراپرٹی کو 2007 میں کمرشلائز کیا گیا، اس وقت مصفطیٰ کمال ناظم کراچی تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمرشلائز کے بعد توثیق کے لیے بلڈنگ کنٹرول کے پاس آتی ہے اور انہوں نے منظوری دے دی، 2015 میں ایک شہری عدالت جاتا ہے اور سندھ ہائی کورٹ سے شکایت کرتا ہے کہ یہ عمارت غلط تعمیر ہورہی ہے اس کو روکا جائے لیکن عدالت نے کوئی اسٹے آرڈر نہیں دیا اور کوئی پابندی نہیں لگائی اور عمارت تعمیر ہوگئی۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ عمارت تعمیر ہونے کے بعد لوگ وہاں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہ رہے ہوں اور آج وہ چھت چھین لی جائے تو تکلیف ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ یہ زمین بنیادی طور پر کے ایم سی کی ہے، 1986 میں اس زمین کے حوالے سے قانون سازی ہوئی اور 2010 میں سندھ ہائی کورٹ فیصلہ کرتا ہے کہ جس اضافی زمین پر جھگڑا ہے یہ سندھی مسلم کوآپریٹیو سوسائٹی کو ادائیگی کے بعد دے دی جائے۔

نسلہ ٹاور گرانے کے احکامات

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں 16 جون کو 15 منزلہ عمارت گرانے کے لیے ابتدائی احکامات دیے تھے، جس کو سروس روڑ پر تعمیر کرنے پر تجاوزات قرار دیا تھا۔

بعد ازاں 19 جون کو تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور کے بلڈر کو حکم دیاتھا کہ وہ رہائشی اور کمرشل متاثرین کو تین مہینوں کے اندر ادائیگی کریں۔

جس کے بعد نسلہ ٹاور کے بلڈرز نے اپیل دائر کی جس کو گزشتہ ماہ مسترد کردیا تھا۔

سپریم کورٹ نے 25 اکتوبر کو کمشنر کراچی کو حکم دیا کہ وہ کنٹرول دھماکے کے ذریعے ایک ہفتے کے اندر نسلہ ٹاور گرادیں اور رپورٹ پیش کریں اور اس حوالے سے کمپنیوں کو بتایا گیا تھا کہ وہ اپنے اخراجات سے آگاہ کریں اور ان میں سے دو کمپنیوں کو شارٹ لسٹ بھی کیا گیا تھا۔

ان حکامات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ نے نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کو نوٹسز جاری کیے تھے کہ وہ 15 منزلہ عمارت 27 اکتوبر تک خالی کریں ورنہ متعلقہ حکام کی جانب سے کارروائی کا سامنا کرنا پڑےگا۔

جس کے بعد تمام رہائشیوں نے 28 اکتوبر تک اپنے اپارٹمنٹس خالی کردیے تھے۔

رواں ہفتے کے آغاز میں نسلہ ٹاور گرانے کا کام شروع کردیا گیا تھا جبکہ عدالت نے کمشنر کراچی کو احکامات کی بجاآوری میں ناکامی پر سرزنش کی تھی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے آج (جمعہ 26 نومبر کو) کراچی رجسٹری میں سماعت کے دوران کمشنر کراچی کو احکامات دیے ہیں کہ نسلہ ٹاور کو ایک ہفتے میں گرادیں۔

عدالتیں عمارات گرانے میں مصروف ہیں، سندھ کے بلدیاتی نظام پر بھی نوٹس لیں، خالد مقبول صدیقی

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے بلدیاتی نظام میں اجارہ داری قائم کی ہوئی ہے، ترقیاتی فنڈز ووٹ خریدنے میں لگائے جارہے ہیں، چیف جسٹس اس پر نوٹس کیوں نہیں لیتے؟

کراچی میں رابطہ کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس میں خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ کراچی پورے ملک کو ریونیو فراہم کر رہا ہے اور یہیں کے مکینوں کو بے گھر کیا جارہا ہے۔

انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک شخص کی غلطی کے جرم کی سزا پوری قوم کو دینا چاہتے ہیں۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ سندھ کے شہری علاقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے لیکن صوبے کے تمام اختیارات انہیں دے دیے گئے ہیں، اس حوالے ہم عدالتوں میں بھی گئے لیکن عدالتیں کراچی کی عمارتیں مسمار کرنے میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدالتیں پاکستان کے آئین کی نگہبان ہیں، انہوں نے دھیان نہیں دیا کہ بلدیاتی نظام کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 140 ’اے‘ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سندھ میں بلدیاتی نظام بنایا گیا۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ عدالتیں بھی ٹیکس سے چلتی ہیں اس لیے عام پاکستانی کا حق ہے کہ ان سے سوال کرے، ہم سوال کرتے ہیں کہ آپ کی ٹیبل پر قومی مفاد کے کیسز پڑیں ہیں، آپ ان پر فیصلہ کیوں نہیں کرتے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھو دیش کے خواب کو پالنے کی ذمہ داری پیپلز پارٹی نے لی ہے۔

ایم کیو ایم کنوینر نے کہا کہ کراچی میں عباسی ہسپتال، سبراج سمیت دیگر ادارے ایم کیو ایم کے دور میں بلدیاتی اداروں نے بنائے جس پر حکومت سندھ راج کر رہی ہے۔

انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سندھ حکومت کے زبردستی بنائے گئے بلدیاتی نظام پر ازخود نوٹس کب لیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا آپ نہیں دیکھ رہے سندھ کو کثیر السانی صوبے سے یک لسانی صوبے میں تبدیل کر کے اس پر ٹوٹا پھوٹا بلدیاتی نظام رائج کردیا گیا ہے، اس پر قوم آپ سے جواب طلب کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کے ملازمین بھی بلدیاتی نظام کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں، ہم انہیں لبیک کہتے ہیں۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ مرتضیٰ وہاب کراچی کے بیٹے ہیں انہیں غیر معینہ مدت تک ایڈمنسٹریٹر بنایا گیا ہے، میں انہیں مشورہ دوں گا کہ جاگیردار حکومت کا آلہ کار بننے سے بچیں۔

اس موقع پر ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری کا کہنا تھا حکومت سندھ نے صوبائی اسمبلی میں بل پیش کیا ہے جس کے تحت چیئرمین، میئر یا ڈپٹی میئر کے انتخابات خفیہ بیلٹ پیپرز پر ہوں گے اس پر ایم کیو ایم کی جانب سے تحفظ کا اظہار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اسی بل میں ایک شق یہ بھی ہے کہ کسی بھی غیر منتخب شخص کو میئر منتخب کیا جاسکتا ہے، سندھ حکومت ترقیاتی منصوبوں کی مد میں ملنے والے فنڈز کے پیسے سے انتخابات خریدنا چاہتی ہے، ہم ایسے نظام کو نہیں مانتے جس میں میئر کے پاس کم سے کم اختیارات ہوں، اس کے خلاف ہم ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھائیں گے۔

سابق میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا تھا کہ وہ سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلدیاتی نظام سے متعلق 2017 سے ہماری درخواست سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، ریٹائرمنٹ سے قبل اس پر فیصلہ دیں تاکہ کراچی کے لوگوں کا بھلا ہوجائے، جو اقدامات آپ اٹھا رہے ہیں اس سے حکومت سندھ مزید مضبوط ہو رہی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران ایم کیو ایم رہنما کنور نوید جمیل کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے اختیارات نچلی سطح تک پہنچانے کے بجائے تمام ادارے اپنے اختیارات میں لے لیے ہیں، گزشتہ 13 سالوں میں کراچی میں سرکاری اسکولوں میں کوئی کام نہیں ہوا نہ ہی کوئی نئے اسکولز یا کلینکس بنیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں غیر قانونی تجاوزات کی اجازت سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے دی جو حکومت سندھ کا ادارہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ رہ جانے والے بلدیاتی اداروں کو بھی اپنے اختیار میں لینا چاہتی ہے تاکہ وہاں پر بھی کراچی سے باہر سے آنے والوں کو جعلی ڈومیسائل پر نوکریاں دی جائیں، عدالت اس پر نوٹس لے۔

منبع: ڈان نیوز

The post کراچی میں تو عمارت گرا دی جاتی ہے لیکن یہ بنی گالا میں کیوں نہیں ہوتا، مرتضیٰ وہاب appeared first on شفقنا اردو نیوز.

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں