تہران انتظامیہ نے ہمیں مایوس کیا ہے، دوسرا مذاکراتی دور ہمارے ایجنڈے پر نہیں ہے: پرائس

امریکہ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ، قطر کے دارالحکومت دوحہ میں، دوسرے مذاکرات فی الوقت موضوعِ بحث نہیں ہیں۔

امریکہ وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے معمول کی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ "دوحہ مذاکرات میں تہران انتظامیہ نے ہمیں مایوس کیا ہے”۔

پرائس نے کہا ہے کہ ایران نے جوہری سمجھوتے کی طرف واپسی سے ہٹ کر مطالبات کئے ہیں اور یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ ایران انتظامیہ  سنجیدہ اور  مخلص نہیں ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان  دوسرے مذاکراتی دور کے لئے یورپی یونین حکام کی کوششوں سے متعلق سوال کے جواب میں پرائس نے کہا ہے کہ "یورپی یونین ہماری اتحادی ہے اور ان کوششوں پر ہم اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں تاہم دوسرا مذاکراتی دور ہمارے ایجنڈے پر نہیں ہے”۔

نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ ہم ، 2015 میں طے کئے گئے  ‘مشترکہ جامع عملی پلان’ المعروف  ‘ایران جوہری سمجھوتے’ سے 2018 میں امریکہ کی دستبرداری کے بعد  دوبارہ سمجھوتے  کی طرف واپسی کے معاملے میں پُر عزم ہیں لیکن ایران نے تاحال اس عزم کا مظاہرہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لئے گذشتہ سال آسٹریا  کے دارالحکومت ویانا میں دوبارہ مذاکرات شروع ہوئے ۔ مذاکرات کو، یورپی یونین کے ہائی کمشنر برائے خارجہ تعلقات و سلامتی پالیسی جوزف بوریل  کے الفاظ میں "خارجہ  عوامل” کے باعث، 11 مئی کو التوا میں ڈال دیا گیا تھا۔

بوریل کے 25 جون کے دورہ تہران میں جوہری سمجھوتے کے احیاء کے لئے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات  جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بلواسطہ  مذاکرات 28 تا 29 جون کو طے پائے تھے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں