واشنگٹن: امریکی پروفیسر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ذہنی مریض قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گینگسٹر کی طرح حکومت چلارہے ہیں۔
امریکی یونیورسٹی کولمبیا کے شعبہ معاشیات کے سربراہ ،ممتازعالمی معاشیات دان اور عالمی امورکے ماہر پروفیسرجیفری ساکس نے صدرڈونلڈٹرمپ کی ذہنی صحت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایک چھوٹا سا مفادپرست ٹولہ امریکی صدر کے فیصلوں پر اثراندازہورہا ہے جن میں نیتن یاہو بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اسٹاک مارکیٹ کے اتارچڑھاﺅ سے واشنگٹن اور نیویارک میں بااثرلوگوں نے بہت پیسہ کمایا ہے ۔
اپنے حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکا اور دنیا کے مختلف نامور ماہرین نفسیات نشاندہی کرچکے ہیں کہ امریکی صدر ”ڈیمنشیا“اور ذہنی زوال کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اپنے چند خاص دوستوں اور خاندان کے افراد کی مدد سے گینگسٹرزکی طرح حکومت چلارہے ہیں ،ان کے بیانات میں تضادات ان کی گرتی ہوئی ذہنی صحت کا ثبوت ہے۔
پروفسیرجیفری ساکس نے کہا کہ ٹرمپ نہ صرف جھوٹ بولنے کے عادی ہیں بلکہ وہ ایک خیالی دنیا میں رہتے ہیں جس کا اندازہ ان کے بیانات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران 2015کے ”جوہری معاہدے“میں اٹیمی ہتھیار نہ بنانے سمیت بہت سارے امورپر مطالبات کو تسلیم کرچکا ہے اور وہ باربار دہراتا رہا ہے کہ تہران ایٹمی ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
انہوں نے ایران امریکا حالیہ مذکرات میں واشنگٹن کے نامزدمذکرات کاروں صدرٹرمپ کے کاروباری شراکت دار اور قریبی دوست امریکی خصوصی ایلچی اسٹیووٹکوف اور ڈونلڈٹرمپ کے دامادجیرڈکشنرکو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے تک لانے میں ان دونوں شخصیات نے بنیادی کرداراداکیا ہے۔
پروفیسرجیفری ساکس نے کہا کہ وہ یورپ کی طرف عرب ممالک کے سربراہان کو بھی ملاقاتوں میں مشورے دیتے رہے ہیں کہ وہ امریکا پر انحصارکرنے کی بجائے اپنے دفاع کے لیے اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا کہ ”آئرن ڈوم“پہلے حقیقی امتحان میں ناکام ہوگیا ہے اور جی سی سی ممالک ”آئرن ڈوم“اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر انحصارکرکے بیٹھے تھے مگر امریکا کے طرزعمل نے بتادیا کہ ضرورت پڑنے پر واشنگٹن جی سی سی ممالک کا تحفظ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
امریکی ماہرمعاشیات نے کہا کہ سب سے زیادہ نقصان کا سامنا متحدہ عرب امارات کوکرنا پڑرہا ہے کیونکہ یواے ای نے خطے میں تعلقات میں توازن کی پالیسی اختیار کرنے کی بجائے امریکی کالونی کی طرح کا عمل اختیار کیا جس کی وجہ سے اسے زیادہ نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔
پروفسیرجیفری ساکس نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو عہد حاضرکا سب سے بڑا جنگی مجرم قراردیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور یورپ اس کی حمایت ختم کرکے واضح طورپر پیغام دے کہ اسرائیل اپنے 1967کے باڈرزکے اندرواپس آئے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیرامن قائم نہیں ہوسکتا۔
امریکا اسرائیل کے حق میں اپنے ویٹو سے دستبراری اختیارکرتے ہوئے فلسطینی ریاست کے قیام کی قراردادوں کی حمایت کرئے اسی صورت میں خطے میں مستقل طور پر امن قائم ہوسکتا ہے۔