کٹھمنڈو: نیپال میں جنریشن زیڈ کی نومنتخب حکومت نے کرپٹ اشرافیہ پر ہاتھ ڈال دیا ہے۔
نیپال حکومت نے بدعنوانی کے الزامات کے تناظر میں ایک بڑا اور غیر معمولی اقدام اٹھاتے ہوئے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اقتدار میں رہنے والے اعلیٰ سیاسی لیڈروں کی جائیدادوں کی جانچ کا اعلان کیا ہے۔
کابینہ کے حالیہ اجلاس میں ایک خصوصی اور خودمختار کمیشن کے قیام کی منظوری دی گئی، جو 2005 سے 2025 تک کے عرصے میں خدمات انجام دینے والے سابق وزرائے اعظم، وزراءاور سینئر حکام کے اثاثوں کی تفصیلی چھان بین کرے گا۔
حکومتی فیصلے کے مطابق اس تحقیقات کے دائرے میں 7سابق وزرائے اعظم شامل ہوں گے، جن میں کے پی شرما اولی، پشپ کمل دہل ’پرچنڈ‘، شیر بہادر دیوبا، مادھو کمار نیپال، کھل راج ریگمی، جھل ناتھ کھنال اور بابورام بھٹّ رائی کے نام نمایاں ہیں۔
ان کے علاوہ 100 سے زائد سابق وزراء اور کئی اعلیٰ سرکاری افسران بھی اس بڑے احتسابی عمل کی زد میں آئیں گے۔
حکام کے مطابق قائم کیے جانے والے اس خصوصی کمیشن کو مکمل خودمختاری حاصل ہوگی اور وہ قانونی، مالیاتی اور تکنیکی ماہرین کی مدد سے اثاثوں کا ریکارڈ جمع کرے گا۔
کمیشن اس بات کی جانچ کرے گا کہ آیا متعلقہ شخصیات نے اپنے دور اقتدار میں غیر قانونی ذرائع سے جائیدادیں تو حاصل نہیں کیں۔
اگر کسی بھی سطح پر بے ضابطگیاں سامنے آئیں تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔
نیپال میں طویل عرصے سے بدعنوانی اور غیر قانونی اثاثوں کے الزامات سیاسی مباحثے کا حصہ رہے ہیں۔ عوامی حلقوں میں اکثر یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ حکمران طبقے کی مالی حیثیت کا مکمل حساب عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، احتساب کو یقینی بنانا اور عوامی اعتماد کو بحال کرنا ہے۔اس فیصلے کے بعد ملک کی سیاسی فضا میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ کارروائی سیاسی انتقام کے تحت کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد مخالف لیڈروں کو دبائومیں لانا ہے۔
تاہم حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ احتسابی عمل مکمل طور پر غیر جانبدار اور قانون کے مطابق ہوگا۔کمیشن کی جانب سے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ایک جامع رپورٹ تیار کی جائے گی، جسے پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
اس رپورٹ کی بنیاد پر آئندہ قانونی اقدامات کا فیصلہ کیا جائے گا۔