
فائرنگ شام 5 بجے کے فوراً بعد شروع ہوئی۔ پولیس کے عہدے دار، پال پازن نے کہا کہ فائرنگ کا واقعہ براڈوے کے ساتھ وسطی ڈینور میں ایک مصروف سڑک پرپیش آیا،جہاں دکانیں، شراب خانے اور ریستوران واقع ہیں، فائرنگ سے دو خواتین ہلاک اور ایک مرد زخمی ہوا۔

فائرنگ شام 5 بجے کے فوراً بعد شروع ہوئی۔ پولیس کے عہدے دار، پال پازن نے کہا کہ فائرنگ کا واقعہ براڈوے کے ساتھ وسطی ڈینور میں ایک مصروف سڑک پرپیش آیا،جہاں دکانیں، شراب خانے اور ریستوران واقع ہیں، فائرنگ سے دو خواتین ہلاک اور ایک مرد زخمی ہوا۔

وائٹ ہاؤس میں نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ دونوں ممالک کے وفود 10 جنوری کو ملیں گے۔
سرینگر ( ساوتھ ایشین وائر) مقبوضہ کشمیر میں ضلع اننت ناگ کےسریگفوارہ کے،علاقے کلان میں فورسز اور حریت پسندوں کے درمیان تصادم میں ایک حریت پسند کو شہید کردیا گیا جبکہ ایک اور عسکریت پسند کے وہاں موجود ہونے کی اطلاع ہے۔ آئی جی پی کشمیر کے مطابق انکاونٹر میں شہید حریت پسند کی شناخت مزید پڑھیں

نئے قانون کے مطابق چین کے صوبے سنکیانگ میں بنائی جانے والی اشیا کی امریکہ درآمد پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اسلحے سے بھرا بحری جہاز بظاہر کسی ملک کی ملکیت نہیں لگتا تھا، لیکن جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ بحری جہاز ایران سے چلا تھا اور یہ اس سمندری راستے سے گزرا جس کے ذریعے یمن کے حوثی گروپ کو غیر قانونی طور پر اسلحہ پہنچایا جاتا ہے۔

ایک بیان میں، امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا ہے کہ ”امداد کی سطح بڑھانے کے کام میں ہم اپنے ساتھیوں کی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے، تاکہ اس ضرورت کے وقت درکار ضروری امداد فراہم کی جا سکے”
امریکہ سینسِز بیورو کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2020 سے جولائی 2021 کے دوران ملک کی آبادی محض 0.1 فی صد کے اضافے کے ساتھ 33 کروڑ 18 لاکھ رہی۔ اس عرصے میں ملک کی آبادی میں تین لاکھ 92 ہزار 665 نفوس کا اضافہ ہوا۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے نئے کیسز کی تعداد میں خاصا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پیر کے روز رجسٹر ہونے والی یہ تعداد 143،000 تھی، جب کہ اسی دن ہلاکتوں کی تعداد 1300 تک پہنچ گئی۔

گزشتہ 20 برسوں کے دوران افغانستان کی معیشت کا انحصار انتہائی حد تک بیرونی امداد ہی پر تھا۔ عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے بھی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی اعانت روک دی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران سلیوان نے یشاکوف کو بتایا کہ ”کسی بھی نوعیت کے مکالمے کی بنیاد باہمی تعاون پر اور اس بات پر ہوگی کہ روس کے اقدامات سے متعلق ہماری تشویش کو سامنے رکھا جائے”